کیا عمران خان افغانستان کو انڈیا سے دور لے جارہے ہیں؟

  • رجنیش کمار
  • بی بی سی ہندی
،تصویر کا کیپشن

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ افغانستان دورے کے دوران کہا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے وہ ہرممکن مدد کرنے کو تیار ہیں

افغانستان نے ہمیشہ انڈیا پر اعتماد کیا ہے اور پاکستان کو یہ بات کبھی پسند نہیں آئی ہے۔ 2001 میں امریکہ نے افغانستان میں طالبان کو نشانہ بنایا اور نئی حکومت بنانے میں مدد کی۔

19 نومبر کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان پہلی بار افغانستان کے دورے پر گئے اور افغان صدر اشرف غنی نے ان کے اس دورے کو تاریخی قرار دیا ہے۔ عمران خان نے اس دورے کے دوران کہا کہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے وہ ہرممکن مدد کریں گے۔

صدر غنی اور وزیر اعظم عمران خان نے باہمی تعلقات کو بہتر اور مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔ صدر غنی نے کابل میں صدارتی محل میں وزیر اعظم عمران خان کا پرجوش استقبال کیا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان نے صدر غنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ، ’میں نے یہ دورہ اس وقت کیا ہے جب افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم اس دورے سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اور عوام افغانستان میں امن کی بحالی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر افغانستان کو لگتا ہے کہ ہم کسی بھی محاذ پر امن کی بحالی میں اس کی مدد کر سکتے ہیں تو ہم بلا جھجک پوچھیں گے کیونکہ پاکستان بھی افغانستان میں ہونے والے تشدد سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔‘

عمران خان کے اس دورے کو نہ صرف امن کی بحالی کی کوشش بتایا جارہا ہے بلکہ اسے افغانستان اور پاکستان کی موجودہ حکومت کے درمیان بڑھتی قربت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ کیا عمران خان کی حکومت افغانستان کو انڈیا سے دور رکھنے میں کامیاب ہورہی ہے؟

انڈیا اور افغانستان کی دوستی

مئی 2014 میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری میں شرکت کے لیے دلی آئے تھے۔ اس تقریب میں سارک اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے سربراہان بھی مدعو تھے۔ اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف تھے۔ اسی دوران افغانستان کے صوبہ ہرات میں انڈیا کے سفارتخانے پر حملہ ہوا تھا۔

حامد کرزئی نے نئی دلی میں کھلے عام کہا تھا کہ میری حکومت کو یقین ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ نے ہرات میں انڈین سفارتخانے پر حملہ کیا گیا ہے۔'

حامد کرزئی جانتے تھے کہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف بھی دہلی میں موجود ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ

ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں انیشیٹو آن دا فیوچر آف انڈیا اینڈ ساؤتھ ایشیا کے ڈائریکٹر اپرنا پانڈے نے اپنی کتاب ’پاکستان فارن پالیسی: اسکیپنگ انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ افغانستان اورانڈیا کی دوستی کو پاکستان اپنے وجود کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

اس کتاب میں اپرنا پانڈے نے لکھا ہے کہ ’پاکستان ہمیشہ ہی افغانستان اور انڈیا کی دوستی سے ڈرتا رہا ہے۔ جس نظریے کی بنیاد پر پاکستان کا قیام ہوا تھا وہ نظریہ انڈیا اور افغانستان کو اپنے وجود کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ انڈیا اور افغانستان کے تعلقات پرانے ہیں اور پاکستان ہمیشہ اس دوستی کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔‘

’انڈیا کے اس مضبوط رشتے کے سامنے پاکستان اپنی نسلی اور لسانی شناخت کو آگے کرتا رہا ہے لیکن وہ کامیاب نہیں رہا۔ پاکستان نے نسل اور زبان کے اوپر مذہبی قوم پرستی کو حاوی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے ایسا پہلے بنگالیوں اور بعد میں پشتون اور بلوچوں کے ساتھ کیا لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔ انڈیا نے 1971 میں مشرقی پاکستان کی حمایت کی اور علیحدہ ملک بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ اس کے بعد پاکستان کے رہنماؤں کے دل میں یہ خوف گھر کرگیا کہ انڈیا پاکستان کو مزید تقسیم کرنا چاہتا ہے۔‘

مزید پڑھیے

پاکستان کو انڈیا اور افغانستان کی دوستی کا ڈر پریشان کرتا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کی تھی۔

افغانستان نے افغان پاکستان کی سرحد کا تعین کرنے والی ڈیورنڈ لائن کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس لائن کو دونوں ممالک کے درمیان عالمی سرحد سمجھا جاتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

جنرل ایوب خان کو اس تصویر میں اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے

1950 اور 60 کی دہائی میں پاکستانی رہنماؤں نے افغانستان کے ساتھ مل کر ایک فیڈریشن بنانے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان کے پہلے فوجی حکمران جنرل ایوب خان نے افغانستان، پاکستان، ایران اور ترکی کے ساتھ ملک یہ فیڈریشن تشکیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان کولگتا تھا کہ اس سے اس کے سٹریٹیجک مسائل حل ہوجائیں گے۔

پاکستان کو لگتا تھا کہ اگر افغانستان اس فیڈریشن میں شامل ہوگیا تو وہ پشتونوں کی علیحدگی پسند تحریک کی حمایت نہیں کرے گا اور اسی کے ساتھ ہی انڈیا کے مقابلے میں وہ افغانستان میں اپنے اثرو رسوخ کو بڑھا سکے گا۔ افغانستان نے اس فیڈریشن میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔

اپرنا پانڈے نے لکھا ہے کہ پاکستان افغانستان میں ایک ایسی حکومت چاہتا تھا جو پاکستان کی حامی اور ہند مخالف ہو۔ یہ ان کی قومی سیاست اور بین الاقوامی پالیسی دونوں کے لئے ضروری تھا۔ لیکن پاکستان افغانستان کے رہنماؤں کو یہ سمجھانے میں ناکام رہا کہ وہ کیوں انڈیا مخالف رویہ اختیار کریں؟

اس پالیسی کے تحت پاکستان نے پہلے اسلام پسند پشتونوں کی حمایت کی جو قوم پرست پشتونوں کا مقابلہ کرسکیں۔ پاکستان نے برہان الدین ربانی کی جماعت اسلامی افغانستان اور گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کی حمایت شروع کردی۔ یہ کام اس نے افغانستان پر سوویت یونین کے حملے سے پہلے شروع کردیا تھا۔ اس وقت امریکہ نے بھی پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی تھی۔

پاکستان سوویت یونین کے جانے اور 1990 کی دہائی میں امریکہ کے مفادات ختم ہونے کے بعد تک ایسا ہی کرتا رہا۔ ان برسوں میں پاکستان نے 1980 کی دہائی میں افغان مجاہدین کی حمایت کی۔ 1990 کی دہائی میں طالبان کی حمایت کرنا شروع کردی۔ بعد میں طالبان کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے بھی رہا اور ان کے پاکستان سے بھی تعلقات تھے۔

انڈیا اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ

انڈیا اور افغانستان کے مابین تعلقات کا آغاز 1950 کی دہائی کے اوائل میں ’دوستی کے معاہدے‘ پر دستخط کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک میں تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی بھی ایک مضبوط بنیاد ہے ۔ آج کی تاریخ میں انڈیا افغانستان میں سب سے بڑا علاقائی ڈونر ہے یعنی وہ سب سے زیادہ عطیہ دیتا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور وزیر خارجہ عبد اللہ عبد اللہ نے انڈیا میں ہی تعلیم حاصل کی ہے۔.

انڈیا افغانستان میں بہت سارے ترقیاتی کام کر رہا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے سے متعلق متعدد بڑے کام ہوچکے ہیں۔ ان میں پارلیمان کی عمارت سے لے کر متعدد ڈیم اور سڑکیں بنانا شامل ہے۔ انڈیا افغانستان کی فوج کو تربیت بھی دیتا ہے یہاں تک کہ انڈیا نے افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو کھڑا کرنے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔

افغانستان انڈیا کے لئے وسطی ایشیا کا گیٹ وے ہے۔ افغانستان وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم ملک ہے۔ حالانکہ پاکستان دونوں ممالک کے راہداری کے راستوں کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے راستے تجارت کرنی پڑتی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

افغانستان کے پارلیمان کی عمارت انڈیا کی مدد سے بنی تھی اس عمارت کے ایک بلاک کا نام انڈیا کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے نام پر ہے۔ سنہ 2015 میں دسمبر کے مہینے میں انڈیا کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کیا تھا

افغانستان کی قیادت اور پاکستان

پاکستان عبداللہ عبداللہ کے مقابلے میں افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی کو اپنے زیادہ قریب سمجھتا ہے۔ اس کی بعض وجوہات ہیں۔ ڈاکٹرعبداللہ احمد شاہ مسعود کے قریبی رہ چکے تھے جنہوں نے طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کی قیادت کی تھی۔ احمد شاہ مسعود افغانستان میں پاکستان کے کردار پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

عبد اللہ عبد اللہ تاجک ہیں۔ وہ پشتون رہنما نہیں ہیں اور انھوں نے انڈیا میں کئی سال گزارے ہیں۔ اس لیے انہیں انڈیا کا حمایتی تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر غنی ہیں جو ایک پشتون رہنما ہیں اور ان کے انڈیا سے کوئی جذباتی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اشرف غنی پاکستان کے زیادہ قریب رہے ہیں۔ سنہ 2015 میں برطانوی اخبار 'دی گارڈین' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل مشرف نے کہا تھا کہ جب وہ صدر تھے تو انھوں نے افغانستان کی حامد کرزئی کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تھی کیونکہ حامد کرزئی انڈیا کے حامی اور وہ پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پرویز مشرف نے اشرف غنی کے صدر بننے پر کہا تھا کہ ’اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ پاکستان اشرف غنی کے ساتھ کھڑا ہے۔ حامد کرزئی جب تک صدر کے عہدے پر فائز رہے وہ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچاتے رہے۔ ظاہر ہے کہ ہم اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوشش کرسکتے ہیں۔ اشرف غنی کے آنے کے بعد سے افغانستان نے اپنے نظریے میں توازن پیدا کیا ہے اور پاکستان ان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے عمران خان کا پرجوش استقبال کیا۔

جب2001 میں امریکہ نے طالبان پر حملہ کیا تو اس کے بعد افغانستان میں 2001 سے لے کر 2008 تک کا عرصہ پاکستان کے لیے سب سے مشکل وقت تھا۔ لیکن ستمبر 2014 میں جب افغانستان کی کمان اشرف غنی کے ہاتھوں میں آئی تو انھوں نے نہ صرف انڈیا کے ساتھ اسلحے کا معاہدہ منسوخ کیا بلکہ مشرقی افغانستان میں پاکستان مخالف جنگجوؤں سے نمٹنے کے لئے اپنی فوج بھیجی .

پرویز مشرف کو صدر اشرف غنی کا وہ فیصلہ بہت پسند آیا جس میں انھوں نے اپنے چھ فوجی کیڈٹ کو تربیت کے لیے پاکستان آفیسر اکیڈمی میں بھیجا تھا۔

دوسری طرف حامد کرزئی کھلے عام ہندوستان کے حمایت میں کھڑے رہے۔ حامد کرزئی نے اپنے فوجیوں کو تربیت کے لیے انڈیا بھیجا تھا۔ صدر کرزئی کا یہ فیصلہ جنرل پرویز مشرف کے لیے ایک دھچکے کی مانند تھا۔ ان کا خیال تھا کہ افغانستان کے فوجی پاکستان کے مخالف ہو جائیں گے۔

مشرف نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے 2001 میں صدر کرزئی کی وجہ سے طالبان کو مضبوط کیا تھا۔

پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ’کرزئی کے دور میں غیر پشتونوں کا بول بالا تھا اور یہ حکومت انڈیا کے ساتھ تھی۔ ظاہر ہے کہ ہم چاہتے تھے کہ اس حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے ایک اور گروپ کو کھڑا کیا جائے جو انڈیا کو چیلنج کرسکے۔ ہم نے طالبان سے رابطہ کیا۔‘

صدر اشرف غنی کا خیال تھا کہ پاکستان کی مدد سے وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائیں گے۔ لیکن اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد صدر غنی نے پاکستان سے متعلق مایوسی کا اظہار کیا۔

25 اپریل 2016 کو صدر غنی نے افغان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے وہ طالبان کو مذاکرات کے لئے تیار کرنے کی توقع نہیں کرسکتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی

19 اپریل کو کابل میں ہونے والے حملے سے صدر غنی کو سخت افسوس ہوا تھا۔ اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کو صدر غنی کی ناکامی کے طور پر دیکھا گیا وہ پاکستان کے قریب ہونے کے باوجود اس کی وضاحت نہیں کر سکے۔

حالانکہ اب پاکستان، طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے لیکن افغانستان میں تاحال تشدد تھما نہیں ہے۔ اس سے قبل عمران خان نے سعودی عرب اور ایران کے مابین بات چیت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔ عمران خان نے اپنے متعدد انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان کے صحافی نجم سیٹھی کا خیال ہے کہ عمران خان کی کوئی خارجہ پالیسی کارآمد نہیں ہوسکی ہے۔ 19 نومبر کے نشر ہونے والے اپنے پروگرام میں انھوں نے کہا تھا کہ آج کی تاریخ میں سعودی عرب اور نہ ہی متحدہ عرب امارات عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا، ’ایران کے ساتھ کھڑے ہو کر آپ کیا حاصل کریں گے؟ وہاں سے پاکستان کو کیا حاصل ہونا ہے؟ اگر کچھ حاصل ہونا تھا تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یورپ اور امریکہ سے ہونا تھا لیکن ان سب کے ساتھ تعلقات خراب ہیں۔ ملیشیا کے جو وزیر اعظم ان کی حمایت کرتے تھے وہ اب اقتدار میں نہیں ہیں۔ یہ مسلم ممالک کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی اس خواہش سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔`