پی ڈی ایم کا دوسرا جلسہ: مریم، بلاول اور دیگر رہنما کراچی کے باغ جناح پہنچ گئے

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

گیارہ جماعتی حکومت مخالف اتحاد، پی ڈی ایم گوجرانوالہ میں اپنے پہلے مشترکہ جلسے کے بعد کراچی کے جناح باغ میں جلسے کا انعقاد کر رہی ہے جہاں اب سے کچھ دیر قبل مریم نواز، بلاول بھٹو اور دیگر رہنما جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں۔

باغِ جناح میں ہونے والے جلسے کی میزبان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے آن لائن خطاب کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

مہمان خاص مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز ہیں جو پہلی بار سندھ میں اپنی سیاست کا آغاز کریں گی۔

مریم نواز بذریعہ ہوائی سفر کراچی پہنچی تھی جہاں انھوں نے مزار قائد پر حاضری بھی دی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر پارٹی رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔

مریم نواز نے اب سے کچھ دیر قبل کراچی کے نجی ہوٹل میں میڈیا ےس مختصر گفتگو میں کہا کہ کراچی میں جس طرح استقبال ہوا وہ یاد رکھوں گی۔ انھوں نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم عوام کی صحیح طرح ترجمانی نہیں کر سکے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی نے اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے بتایا ہے کہ میاں نواز شریف کے آن لائن خطاب کے لیے بھی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ دو روز قبل متحدہ اپوزیشن کا پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی تقریر میں فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر اپنی حکومت کو رخصت کرنے اور عمران خان کی حکومت کے لیے جوڑ توڑ کرنے کے الزامات لگائے تھے۔

ادھر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق صدر آصف علی زرداری سے کراچی پہنچ کر ایک نجی ہسپتال میں ملاقات بھی کی ہے۔

پی ڈی ایم کے جلسے کے آغاز سے پہلے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔

،تصویر کا کیپشن

شاہراہ فیصل پر مریم نواز کے استقبال کا منظر

گوجرانوالہ جلسے میں پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت کو مدعو نہیں کیا گیا تھا تاہم پی ڈی ایم کے دوسرے جلسے میں رکنِ پارلیمان محسن داوڑ بھی شریک ہوں گے اور وہ بھی کراچی پہنچ چکے ہیں۔

کراچی کی متحد شاہراہوں پر اس سیاسی اتحاد میں شامل رہنماؤں کی تصاویر اور بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما ناز بلوچ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جلسہ گاہ اور اپنی ساتھی رہنماؤں کے ساتھ تصاویر اپ لوڈ کی ہیں۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کے وزرا کی جانب سے کراچی جلسے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں گیارہ جماعتی اتحاد پر تنقید کی ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس میں کراچی میں پی ٹی آئی کے ایک بڑے ووٹ بینک کا ذکر کیا، تاہم انھوں نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی تقاریر کو ایک مرتبہ پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نواز شریف کی لڑائی اداروں سے ہے جمہوریت کے لیے نہیں۔

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے مریم نواز کی قائد محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کے موقع پر سیاسی نعرے بازی کیے جانے پر تنقید کی۔

خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی 18 اکتوبر کی تاریخ سے جذباتی وابستگی ہے۔ اس روز 13 سال قبل آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے خاتمے کے بعد پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو واپس وطن آئیں تھیں تو ان کے استقبالیہ جلوس پر خودکش حملہ کیا گیا تھا۔

اس حملے میں پارٹی کے تقریباً 200 کارکن اور ہمدرد ہلاک اور 500 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ یہ دن اب پیپلز پارٹی کی تاریخ میں اہمیت حاصل کرچکا ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اس سے قبل 18 اکتوبر کا جلسہ کوئٹہ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے میزبان پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی تھے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی اور اپوزیشن قیادت کو کراچی کے جلسے میں شرکت کی دعوت دی جہاں بلاول بھٹو، مریم نواز، مولانا فضل الرحمان خطاب کریں گے۔

کراچی کے جلسے کا بیانیہ کیا ہوگا؟

گوجرانوالہ میں مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف، مریم نواز، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقاریر میں عمران خان کی حکومت اور فوجی سٹیشبلمنٹ کو کھلے اور دبے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہفتے کے روز وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگرز فورس کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا حملہ آرمی چیف پر نہیں بلکہ فوج پر ہے۔

گوجرانوالہ میں جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنایا گیا کیا وہ تسلسل کراچی میں بھی جاری رہیگا؟

اس سوال پر صحافی مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ پنجاب کے علاوہ باقی دیگر صوبوں میں اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات پہلے سے موجود ہیں۔ کراچی میں بھی یہ آواز اٹھ رہی ہے اس لیے جو بیانیہ گوجرانوالہ میں آیا ہے وہ جمود کا شکار نہیں ہوگا بلکہ آگے جائیگا۔

ادھر کراچی یونیورسٹی کے ریٹائرڈ استاد ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ کراچی میں جو جماعتیں اس وقت سرگرم ہیں یعنی تحریک انصاف اور ایم کیو ایم، وہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں۔ پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے علاوہ مہنگائی کو بھی ایشو بنایا گیا اور مہنگائی و دیگر صورتحال کراچی میں بھی موجود ہے لیکن کسی جماعت نے اب تک اس پر خاطر خواہ شور نہیں مچایا ہے۔

اپوزیشن کے شہر میں اپوزیشن اتحاد کا جلسہ

گذشتہ انتخابات میں کراچی شہر سے سب سے زیادہ نشستیں تحریک انصاف اور اس کے بعد ایم کیو ایم نے حاصل کیں جو دونوں جماعتیں اس وقت وفاق میں دونوں اتحادی ہیں جبکہ سندھ میں یہ اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز پہلی بار سندھ میں اپنی سیاست کا آغاز کریں گی

صحافی مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا زوال ہوچکا ہے، تحریک انصاف کی کارکردگی بھی متاثر کن نہیں رہی اور اس نے ووٹر کو مایوس کیا ہے اور اس صورتحال میں کراچی کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ موڈ پی ڈی ایم کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔

اردو آبادی کی عدم شرکت

کراچی میں اردو بولنے والی آبادی میں اثر رسوخ رکھنے والی جماعت اسلامی نے خود کو اپوزیشن اتحاد سے دور رکھا ہے، جبکہ مصطفی کمال کی پی ایس پی، آفاق احمد کی ایم کیو ایم حقیقی اس اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔

تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ جلسے کا بیانیہ تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہی رہے گا لیکن یہ کراچی شہر کا بیانیہ نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق کراچی کی شہری آبادی کو پیپلز پارٹی حکومت نے مایوس کیا ہے اور اسی طرح ایم کیو ایم، مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں سے ہی فاصلے پر ہے تو شہر کی اردو آْبادی متاثر کن حد تک اس جلسے میں شریک نہیں ہوگی۔

’کراچی کی اردو آبادی فاطمہ جناح کے لیے سٹیبشلمنٹ کے ساتھ لڑی تھی لیکن اس کے بعد ایسی صورتحال نظر نہیں آئی۔‘

یاد رہے کہ ایوب خان کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف پی این اے کی تحریک اور اس کے بعد آئی جی آئی میں جماعت اسلامی اور ایم کیوایم اپوزیشن اتحاد کا حصہ رہی ہیں۔

ڈاکٹر توصیف احمد کا ماننا ہے کہ یہ ایک بڑا اور کثیر الاقومی جلسہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی لیاری، ملیر، کراچی کے آس پاس کے اضلاع سے لوگ لانے میں کامیاب رہیگی جبکہ جمعیت علما اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی پشتون آبادی سے شرکا لا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ بھی کراچی میں مقبولیت رکھتی ہے لیکن گوجرانولہ میں اس کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔

عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی، نیشنل پارٹی اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے برعکس سندھ کی کوئی بھی قوم پرست جماعت اس گیارہ جماعتیں اتحاد میں شامل نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون کے خاموش ہمدرد

مسلم لیگ نواز 1990 کی دہائی میں سندھ میں دو بار صوبائی حکومت بناچکی ہے۔ گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں بھی اس نے کئی نشستیں حاصل کیں۔

پروفیسر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ پنجابی اور ہزارہ وال آبادی میں مسلم لیگ نون کا ہمدرد تو موجود ہے لیکن اس کو متحرک نہیں کیا گیا، وہ صرف الیکشن میں اپنی وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔

ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ اور ہمدرد مریم نواز کو سننے کے لیے جائیں لیکن اس کے لیے کوئی گراؤنڈ ورک نہیں کیا گیا ہے۔

نون لیگ کے رہنما مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ جلسے کی تیاری مقامی طور پر کی گئی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اس جلسے کی میزبان ہے اور ان کا مکمل ساتھ ہے۔

جے یو آئی اتحادی اور مخالف بھی

پی ڈی ایم اے کی اہم اتحادی جماعت جمعیت علما اسلام سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی مخالف ہے اور لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات میں اس کا اظہار کرچکی ہے، جے یو آئی کے رہنما راشد محمود سومرو کا کہنا ہے کہ سیاسی اتحاد الگ اور انتخابی اتحاد الگ چیزیں ہیں۔ پی ڈی ایم میں ایک نکتے پر اتحاد ہوا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف نااہل ہیں انہیں گھر جانا چاہیے۔

پی ڈی ایم اے کا جلسہ ایک ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب شہر میں فرقہ وارنہ کشیدگی بھی موجود ہے، دیوبند مسلک کے عالم ڈاکٹر عادل کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے دو روز قبل شہر میں جزوی ہڑتال اور مظاہرے بھی کیے گئے اس سے قبل مسلکی مذہبی جماعتیں ریلیاں بھی نکال چکی ہیں۔